ابنا: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے سلامتی کونسل کی نشست مسترد کرنے کے اپنے فیصلے سے اسے باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے سلامتی کونسل پر ’دہرے معیار‘ کا الزام لگا کر اس کی غیر مستقل نشست ٹھکرا دی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ سعودی عرب نے اس سلسلے میں اپنے فیصلے کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل شام اور دنیا کے دوسرے تنازعات میں موثر کردار ادا کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔سعودی عرب کے اس فیصلے کو بین الاقوامی سفارت کاری میں حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر جیرارڈ اروڈ نے اس فیصلے کو سعودی عرب کی جھنجھلاہٹ قرار دیا ہے۔روس کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے اس اقدام کو تعجب خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے معاملے کو لے کر سعودی عرب کی جانب سے سلامتی کونسل پر نکتہ چینی ’حیران کن‘ ہے۔سعودی عرب شام میں مسلح دہشت گرد باغی گروہوں کی مبینہ حمایت کرتا ہے جو بڑے پیمانے پر سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں، اس کے باوجود اسے شکایت ہے کہ بین الاقوامی برادری شام کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔نہ صرف سعودی عرب میں شہریوں کو کسی طرح کی سیاسی، مذہبی اور سماجی آزادی حاصل نہیں ہے بلکہ حکومت ریاض دیگر ممالک کے داخلی مسائل میں بے جا مداخلت کرتی ہے۔ریاض نے خلیج فارس کے اپنے ہمسایہ ملک بحرین میں عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے اپنے سیکڑوں فوجی وہاں تعینات کیے ہوئے ہیں۔مصر میں محمد مرسی کی منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے لیے سعودی عرب نے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے ہیں۔لبنان اور دیگر ہمسایہ ممالک میں ریاض کی بے جا مداخلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ان تمام حقائق کے باوجود سعودی حکام شام کے متعلق اقوام متحدہ سے نالاں ہیں اور سلامتی کونسل پر اس عرب ملک میں فوجی مداخلت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔......./169
18 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 473661
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے سلامتی کونسل کی نشست مسترد کرنے کے اپنے فیصلے سے اسے باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا ہے۔